ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کورونا وباء پر فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی:ہیگڈے، کرندلاجے، رنیوکاچاریہ اوریتنال کے خلاف کارروائی کرنے آئی جی پی کودیا گیا میمورنڈم

کورونا وباء پر فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی:ہیگڈے، کرندلاجے، رنیوکاچاریہ اوریتنال کے خلاف کارروائی کرنے آئی جی پی کودیا گیا میمورنڈم

Fri, 10 Apr 2020 20:50:11    S.O. News Service

بھٹکل 10/اپریل (ایس او نیوز) ملک اور ریاست میں کورونا وائرس کی وباء عام ہونے کے بعدبی جے پی کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے، شوبھا کرند لاجے، رکن اسمبلی رینوکا اچاریہ اورسابق وزیر بسون گوڈا پاٹل یتنال نے اس بیماری کے تعلق سے افواہیں پھیلانے اور اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان دینے کام کیا تھا۔جس پر سوشیل میڈیا پر کافی بحث چلی تھی۔

اس معاملے پر بنگلور میں  کرناٹکا پردیش کانگریس کی طرف سے اقدام کرتے ہوئے ریاست کرناٹک کے ڈائرکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل آف پولیس پروین سود کو ایک میمورنڈم دیا گیا جس میں کے پی سی سی صدر ڈی کے شیوکمار کی طرف سے مانگ کی گئی ہے کہ بی جے پی کے ان لیڈروں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 153aکے تحت فوجداری مقدمہ دائر کیا جائے اور انہیں گرفتار کیا جائے۔کے پی سی سی کے ورکنگ پرسیڈنٹ سلیم احمد کی قیادت میں لیجسلیٹیو کاونسل میں حز ب مخالف کے لیڈرنارائن سوامی، ایم ایل سی وینو گوپال پر مشتمل ایک وفد نے آئی جی پی کے دفتر پہنچ کر یہ میمورنڈم دیا۔ 

خیال رہے کہ ہمیشہ اشتعال انگیز بیانات کے لئے بدنام اننت کمار ہیگڈے نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ میں اپنا ایک آرٹیکل شائع کیا تھا اور تبلیغی جماعت کی تاریخ اور ان کی سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اسے ایک ملک دشمن اور ہندو دشمن تحریک ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ جبکہ شوبھاکرندلاجے نے کورونا وباء کو تبلیغی جماعت کی ساز ش اور طبی معائنہ نہ کرنے والوں کو ملک کے غدار قرار دیا تھا۔اسی طرح رکن اسمبلی رینوکا چاریہ نے کھلے عام یہ بیان دیا تھا کہ تبلیغی جماعت والوں کو کورونا وائرس پھیلانے کے جرم میں گولی ماردینا بھی کوئی غلط بات نہیں ہوگی۔اس سے پہلے بھی رینوکا چاریہ نے ایک او ر موقع پر مسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے کہا تھاکہ مسجدوں میں نماز ادا کرنے کے بجائے ہلاکت خیز ہتھیار جیسے تلواریں، چاقو، سوڈا بوتلیں وغیرہ جمع کرکے رکھی جاتی ہیں۔بسون گوڈا پاٹل نے بھی تبلیغی جماعت کا رشتہ کوروناوباء سے جوڑنے اور مسلمانوں کو مجرم قرار دینے کی باتیں کہی تھی۔

 اس دوران ایک مثبت بات یہ ہوئی کہ وزیر اعلیٰ ایڈی یورپا نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوروناوائرس کی وباء کوکسی ایک مذہب اور طبقے سے جوڑنے والے بیانات کسی بھی طرح برداشت نہیں کئے جائیں گے  انہوں نے  ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی دھمکی بھی  دی تھی۔ جس کے بعد بی جے پی کے خیمے میں پارہ تھوڑا ساکم ہوگیا اور خود بی جے پی کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل کو اخباری بیان جاری کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے لیڈروں سے کہنا پڑا کہ وہ کسی مخصوص قوم اور طبقے کو نشانہ بنانے  سے گریز کریں۔


Share: